ابنا: رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق پال رابرٹس نے جو سابق صدر ریگن کی انتطامیہ میں عھدیدار تھے کہا ہےکہ امریکی حکومت پر نہایت طاقتور پرائيویٹ سیکٹر کی گرفت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت پر وال اسٹریٹ، فوجی اور پولیس ادارے، اسرائيلی لابی، زرعی کمپنیاں، انرجی کی کمپنیاں، اور معدنیات کا سیکٹر قابض ہے بنابریں کوئي بھی کانگریس اور حکومت ان کمپنیوں کے مفادات کو نظر میں لائے بغیر کوئي قانون منظور نہیں کرواسکتی۔ پال رابرٹس نے کہا وہ نہیں سمجھتے کہ حالات میں تبدیلی آجائے گي کیونکہ بنیادی طور سے امریکہ کو وہائٹ ہاوس، کانگریس یا سیاسی جماعتیں نہیں چلاتی ہیں لھذا اوباما سے تبدیلی کی توقع رکھنا عبث ہے۔ انہوں نے کہاکہ اوباما نے تمام سکیورٹی اقدامات کو جو بش نے قومی سلامتی کے بہانے انجام دئے تھے قانونی حیثیت عطا کردی اور افغانستان کی جنگ میں شدت لانا بھی انہیں کا کارنامہ ہے بنابرایں میں یہ نہیں سمجھتا کہ اوباما کے دوسرے دور صدارت میں کسی طرح کی تبدیلی آئے گي۔ ادھر امریکہ کے ایک تجزیہ نگار اور سیاسی مبصر اسٹیفن لینڈ مین نے کہا ہے کہ اوباما کا دوسرا دور صدارت وحشت اور انسانیت کے خلاف جرائم کا دور ہوگا۔ انہوں نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اوباما کا دوسرا دور ان کے پہلے دور سے زیادہ خطرناک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔/110
11 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 364084
امریکہ کے ایک سابق عھدیدار نے کہا ہے کہ صدر اوباما امریکی بینکوں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں کھلونا ہیں۔